William Shakespeare Sayings William Shakespeare
Poet: William Shakespeare By: Shaman, Swat Shall I compare thee to a summer’s day? Thou art more lovely and more temperate: …
Poet: William Shakespeare By: Shaman, Swat Shall I compare thee to a summer’s day? Thou art more lovely and more temperate: …
Poet: Saima Qureshi ©️ By: Saima Qureshi, Lahore I: "It's too hard to accept that you are gone." You: "Bu…
Poet: Saima Qureshi By: Saima Qureshi, Lahore It's been two decimal two decades We have been living Alone Together And t…
Poet: Saima Qureshi By: Saima Qureshi, Lahore Agnoy of mind, I just wanted to share Talk little, shed tears and express my f…
Poet: Saima Qureshi By: Saima Qureshi, No matter what you say and show The truth very much, I do know With me, you cherish …
Poet: Saima Qureshi By: Saima Qureshi, Lahore Never hurt a poetess! For she won't harm you back But her lesion will not …
Poet: Saima Qureshi By: Saima Qureshi, Lahore My heart yearned to connect to yours I spared no effort Even did the damnedest…
Poet: Safia Mushtaq By: Safia Mushtaq, Rawalpindi Failure is a prime chapter of life Loosing and winning is a regular strife…
جو غیر تھے وہ اسی بات پر ہمارے ہوئے کہ ہم سے دوست بہت بے خبر ہمارے ہوئے کسے خبر وہ محبت تھی یا رقابت تھی بہت سے لوگ تجھے د…
تیرے ہوتے ہوئے محفل میں جلاتے ہیں چراغ لوگ کیا سادہ ہیں سورج کو دکھاتے ہیں چراغ اپنی محرومی کے احساس سے شرمندہ ہیں خود نہیں …
نہ منزلوں کو نہ ہم رہ گزر کو دیکھتے ہیں عجب سفر ہے کہ بس ہم سفر کو دیکھتے ہیں نہ پوچھ جب وہ گزرتا ہے بے نیازی سے تو کس ملال …
جب بھی دل کھول کے روئے ہوں گے لوگ آرام سے سوئے ہوں گے بعض اوقات بہ مجبوریٔ دل ہم تو کیا آپ بھی روئے ہوں گے صبح تک دست صبا نے…
جان سے عشق اور جہاں سے گریز دوستوں نے کیا کہاں سے گریز ابتدا کی تیرے قصیدے سے اب یہ مشکل کروں کہاں سے گریز میں وہاں ہوں جہاں…
خود کو ترے معیار سے گھٹ کر نہیں دیکھا جو چھوڑ گیا اس کو پلٹ کر نہیں دیکھا میری طرح تو نے شب ہجراں نہیں کاٹی میری طرح اس تیغ …
ہوئی ہے شام تو آنکھوں میں بس گیا پھر تو کہاں گیا ہے مرے شہر کے مسافر تو مری مثال کہ اک نخل خشک صحرا ہوں ترا خیال کہ شاخ چمن …
روگ ایسے بھی غم یار سے لگ جاتے ہیں در سے اٹھتے ہیں تو دیوار سے لگ جاتے ہیں عشق آغاز میں ہلکی سی خلش رکھتا ہے بعد میں سیکڑوں …
یہ کیا کہ سب سے بیاں دل کی حالتیں کرنی فرازؔ تجھ کو نہ آئیں محبتیں کرنی یہ قرب کیا ہے کہ تو سامنے ہے اور ہمیں شمار ابھی سے ج…
یوں ہی مر مر کے جئیں وقت گزارے جائیں زندگی ہم ترے ہاتھوں سے نہ مارے جائیں اب زمیں پر کوئی گوتم نہ محمد نہ مسیح آسمانوں سے نئ…
تو کہ انجان ہے اس شہر کے آداب سمجھ پھول روئے تو اسے خندۂ شاداب سمجھ کہیں آ جائے میسر تو مقدر تیرا ورنہ آسودگیٔ دہر کو نایا…
کیا ایسے کم سخن سے کوئی گفتگو کرے جو مستقل سکوت سے دل کو لہو کرے اب تو ہمیں بھی ترک مراسم کا دکھ نہیں پر دل یہ چاہتا ہے کہ آ…
اس منظر سادہ میں کئی جال بندھے تھے جب اس کا گریبان کھلا بال بندھے تھے اے زود فراموش کہاں تو ہے کہ تجھ سے میرے تو شب و روز مہ…
تھا کوئی یا نہیں تھا جو کچھ تھا دل کے اندر کہیں تھا جو کچھ تھا تو بھی اپنے سے خوش گماں تھا بہت میں بھی اپنے تئیں تھا جو کچھ …
اک بوند تھی لہو کی سر دار تو گری یہ بھی بہت ہے خوف کی دیوار تو گری کچھ مغبچوں کی جرأت رندانہ کے نثار اب کے خطیب شہر کی دستار…
چلا تھا ذکر زمانے کی بےوفائی کا تو آگیا ہے تمہارا خیال ویسے ہی
شگفت گل کی صدا میں رنگ چمن میں آؤ کوئی بھی رت ہو بہار کے پیرہن میں آؤ کوئی سفر ہو تمہیں کو منزل سمجھ کے جاؤں کوئی مسافت ہو ت…
تھا عبث ترک تعلق کا ارادہ یوں بھی عشق زندہ نہیں رہتا ہے زیادہ یوں بھی اک تو ان آنکھوں میں نشہ تھا بلا کا اس پر ہم کو مرغوب ہ…
نہیں کہ نامہ بروں کو تلاش کرتے ہیں ہم اپنے بے خبروں کو تلاش کرتے ہیں محبتوں کا بھی موسم ہے جب گزر جائے سب اپنے اپنے گھروں کو…
کون کس کے ساتھ کتنا مخلص ھے فراز وقت ھر شخص کی اوقات بتادیتا ھے
خود کو ترے معیار سے گھٹ کر نہیں دیکھا جو چھوڑ گیا اس کو پلٹ کر نہیں دیکھا میری طرح تو نے شب ہجراں نہیں کاٹی میری طرح اس تیغ …
کیوں ڈھونڈتا پھرتا ہے پینے کو تو شراب؟ حرام شے ہے یہ ! اسکی کوئی جگہ نہیں حرام ہے وہ شے ! جو مدہوش کر دے زیدی ہم تو ہوش سے ب…
گزر گئے کئی موسم کئی رتیں بدلیں اداس تم بھی ہو یارو اداس ہم بھی ہیں فقط تم ہی کو نہیں رنجِ چاک دامانی جو سچ کہیں تو دریدہ لب…
Our website uses cookies to improve your experience. Learn more
Ok