Showing posts from October, 2021

جب بھی دل کھول کے روئے ہوں گے

جب بھی دل کھول کے روئے ہوں گے لوگ آرام سے سوئے ہوں گے بعض اوقات بہ مجبوریٔ دل ہم تو کیا آپ بھی روئے ہوں گے صبح تک دست صبا نے…

جان سے عشق اور جہاں سے گریز

جان سے عشق اور جہاں سے گریز دوستوں نے کیا کہاں سے گریز ابتدا کی تیرے قصیدے سے اب یہ مشکل کروں کہاں سے گریز میں وہاں ہوں جہاں…

روگ ایسے بھی غم یار سے لگ جاتے ہیں

روگ ایسے بھی غم یار سے لگ جاتے ہیں در سے اٹھتے ہیں تو دیوار سے لگ جاتے ہیں عشق آغاز میں ہلکی سی خلش رکھتا ہے بعد میں سیکڑوں …

تو کہ انجان ہے اس شہر کے آداب سمجھ

تو کہ انجان ہے اس شہر کے آداب سمجھ پھول روئے تو اسے خندۂ شاداب سمجھ کہیں آ جائے میسر تو مقدر تیرا ورنہ آسودگیٔ دہر کو نایا…

کیا ایسے کم سخن سے کوئی گفتگو کرے

کیا ایسے کم سخن سے کوئی گفتگو کرے جو مستقل سکوت سے دل کو لہو کرے اب تو ہمیں بھی ترک مراسم کا دکھ نہیں پر دل یہ چاہتا ہے کہ آ…

اس منظر سادہ میں کئی جال بندھے تھے

اس منظر سادہ میں کئی جال بندھے تھے جب اس کا گریبان کھلا بال بندھے تھے اے زود فراموش کہاں تو ہے کہ تجھ سے میرے تو شب و روز مہ…

تھا کوئی یا نہیں تھا جو کچھ تھا

تھا کوئی یا نہیں تھا جو کچھ تھا دل کے اندر کہیں تھا جو کچھ تھا تو بھی اپنے سے خوش گماں تھا بہت میں بھی اپنے تئیں تھا جو کچھ …

اک بوند تھی لہو کی سر دار تو گری

اک بوند تھی لہو کی سر دار تو گری یہ بھی بہت ہے خوف کی دیوار تو گری کچھ مغبچوں کی جرأت رندانہ کے نثار اب کے خطیب شہر کی دستار…

شگفت گل کی صدا میں رنگ چمن میں آؤ

شگفت گل کی صدا میں رنگ چمن میں آؤ کوئی بھی رت ہو بہار کے پیرہن میں آؤ کوئی سفر ہو تمہیں کو منزل سمجھ کے جاؤں کوئی مسافت ہو ت…

تھا عبث ترک تعلق کا ارادہ یوں بھی

تھا عبث ترک تعلق کا ارادہ یوں بھی عشق زندہ نہیں رہتا ہے زیادہ یوں بھی اک تو ان آنکھوں میں نشہ تھا بلا کا اس پر ہم کو مرغوب ہ…

نہیں کہ نامہ بروں کو تلاش کرتے ہیں

نہیں کہ نامہ بروں کو تلاش کرتے ہیں ہم اپنے بے خبروں کو تلاش کرتے ہیں محبتوں کا بھی موسم ہے جب گزر جائے سب اپنے اپنے گھروں کو…

دوستی کا ہاتھ

گزر گئے کئی موسم کئی رتیں بدلیں اداس تم بھی ہو یارو اداس ہم بھی ہیں فقط تم ہی کو نہیں رنجِ چاک دامانی جو سچ کہیں تو دریدہ لب…

Load More
That is All